225

وہ ایک گناہ جسے کرنے والوں کی دعا قبول نہیں ہوتی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) دعا عبادت کا مغز ہے اور دعا سے آنیوالی تمام مصیبتیں ،آزمائشیں بھی ٹل جاتی ہیں اور بیشتر افراد اپنی عبادات میں دعا کو خصوصی مقام دیتے ہیں لیکن کئی مرتبہ گمان ہوتاہے کہ دعا قبول نہیں ہورہی جس کی وجہ سے انسان مختلف قسم کے ابہام کا شکار اور پریشان بھی ہوجاتاہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ ایک کام تمہارا ہے اور ایک کام ہمارا۔تمہارا کام دعا مانگنا ہے، ہمارا کام قبول کرنا۔ ( درمنثور )اللہ تعالیٰ اس سے حیا فرماتا ہے کہ بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھ خالی واپس کرے۔ ( مشکوة) اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کیساتھ اس کی حاجات پوری کرنے کی کچھ شرائط بھی ہیں جس کے بغیر دعا عرش تک نہیں پہنچ سکتی ۔ نیوزویب سائٹ پڑھ لو کے مطابق ایک روز حضرت سعدابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دعا کیجئے کہ میں مقبول الدعا بن جاو¿ں، تو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال غذا اختیار کر !! تیری دعا قبول ہوا کرے گی۔ حرام کمائی جو گوشت حرام و رشوت سے پلا ہو اس میں دوزخ کی آگ جلد اثر کرے گی۔ ( عزیزی )اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور پاکیزگی ہی کو پسند فرماتا ہے۔ ایسا شخص جس کا ذرائع آمدنی مشکوک ہو ایسے انسان کا کھانا پینا اوڑھنا بچھونا سب حرام ہوتا ہے اور ایسے انسان کا جسم بھلے بظاہر بہت خوشبودار اور آراستہ پیراستہ ہو مگر اس کی روح بہت متعفن ہوتی ہے اور پاکیزگی کو پسند کرنے والا رب اس کی آواز کو نہیں سنتا ہے اسی سبب ایسے انسان کی دعا کبھی بھی قبولیت کا درجہ نہیں پاتی ہے۔ گر کوئی شخص رشوت بھی کھاتا ہو، اور مال غبن و خیانت بھی اڑاتا ہو، شراب بھی پیتا ہو، اور غریبوں کا لہو بھی چوس کر جیتا ہو، اور ہر چیز حرام ہی اس کے یہاں عام ہو تو ایسے شخص کی پکار قبولیت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی۔